مَیں انگُور کا درخت ہُوں تُم ڈالِیاں ہو۔ جو مُجھ میں قائِم رہتا ہے اور مَیں اُس میں وُہی بُہت پَھل لاتا ہے کیونکہ مُجھ سے جُدا ہو کر تُم کُچھ نہیں کر سکتے۔
پس اَے عزِیزو! چُونکہ ہم سے اَیسے وعدے کِئے گئے آؤ ہم اپنے آپ کو ہر طرح کی جِسمانی اور رُوحانی آلُودگی سے پاک کریں اور خُدا کے خَوف کے ساتھ پاکِیزگی کو کمال تک پُہنچائیں۔