مَیں انگُور کا درخت ہُوں تُم ڈالِیاں ہو۔ جو مُجھ میں قائِم رہتا ہے اور مَیں اُس میں وُہی بُہت پَھل لاتا ہے کیونکہ مُجھ سے جُدا ہو کر تُم کُچھ نہیں کر سکتے۔
اگر کِسی کو دُوسرے کی شکایت ہو تو ایک دُوسرے کی برداشت کرے اور ایک دُوسرے کے قصُور مُعاف کرے۔ جَیسے خُداوند نے تُمہارے قصُور مُعاف کِئے وَیسے ہی تُم بھی کرو۔