بدکاری سے خُوش نہیں ہوتی بلکہ راستی سے خُوش ہوتی ہے۔ سب کُچھ سہہ لیتی ہے۔ سب کُچھ یقِین کرتی ہے۔ سب باتوں کی اُمّید رکھتی ہے۔ سب باتوں کی برداشت کرتی ہے۔
کیونکہ اِنسانوں میں سے کَون کِسی اِنسان کی باتیں جانتا ہے سِوا اِنسان کی اپنی رُوح کے جو اُس میں ہے؟ اِسی طرح خُدا کے رُوح کے سِوا کوئی خُدا کی باتیں نہیں جانتا۔
مُبارک ہے وہ آدمی جو خُداوند پر توکُّل کرتا ہے اور جِس کی اُمّیدگاہ خُداوند ہے۔ کیونکہ وہ اُس درخت کی مانِند ہو گا جو پانی کے پاس لگایا جائے اور اپنی جڑ دریا کی طرف پَھیلائے اور جب گرمی آئے تو اُسے کُچھ خطرہ نہ ہو بلکہ اُس کے پتّے ہرے رہیں اور خُشک سالی کا اُسے کُچھ خَوف نہ ہو اور پَھل لانے سے باز نہ رہے۔