کیونکہ اِنسانوں میں سے کَون کِسی اِنسان کی باتیں جانتا ہے سِوا اِنسان کی اپنی رُوح کے جو اُس میں ہے؟ اِسی طرح خُدا کے رُوح کے سِوا کوئی خُدا کی باتیں نہیں جانتا۔
اَے میری جان! تُو کیوں گِری جاتی ہے؟ تُو اندر ہی اندر کیوں بے چَین ہے؟ خُدا سے اُمّید رکھ کیونکہ وہ میرے چہرے کی رَونق اور میرا خُدا ہے۔ مَیں پِھر اُس کی سِتایش کرُوں گا۔