مَیں انگُور کا درخت ہُوں تُم ڈالِیاں ہو۔ جو مُجھ میں قائِم رہتا ہے اور مَیں اُس میں وُہی بُہت پَھل لاتا ہے کیونکہ مُجھ سے جُدا ہو کر تُم کُچھ نہیں کر سکتے۔
کیونکہ اِنسانوں میں سے کَون کِسی اِنسان کی باتیں جانتا ہے سِوا اِنسان کی اپنی رُوح کے جو اُس میں ہے؟ اِسی طرح خُدا کے رُوح کے سِوا کوئی خُدا کی باتیں نہیں جانتا۔
پس اَے عزِیزو! چُونکہ ہم سے اَیسے وعدے کِئے گئے آؤ ہم اپنے آپ کو ہر طرح کی جِسمانی اور رُوحانی آلُودگی سے پاک کریں اور خُدا کے خَوف کے ساتھ پاکِیزگی کو کمال تک پُہنچائیں۔