دانِش مند کَون ہے کہ وہ یہ باتیں سمجھے اور دُور اندیش کَون ہے جو اِن کو جانے؟ کیونکہ خُداوند کی راہیں راست ہیں اور صادِق اُن میں چلیں گے لیکن خطاکار اُن میں گِر پڑیں گے۔
لیکن وہ اُس راستہ کو جِس پر مَیں چلتا ہُوں جانتا ہے۔ جب وہ مُجھے تالے گا تو مَیں سونے کی مانِند نِکل آؤں گا۔ میرا پاؤں اُس کے قدموں سے لگا رہا ہے۔ مَیں اُس کے راستہ پر چلتا رہا ہُوں اور برگشتہ نہیں ہُؤا۔
پطرؔس نے زُبان کھول کر کہا۔ اب مُجھے پُورا یقِین ہو گیا کہ خُدا کِسی کا طرف دار نہیں۔ بلکہ ہر قَوم میں جو اُس سے ڈرتا اور راست بازی کرتا ہے وہ اُس کو پسند آتا ہے۔
مَیں اچھّی کُشتی لڑ چُکا۔ مَیں نے دَوڑ کو ختم کر لِیا۔ مَیں نے اِیمان کو محفُوظ رکھّا۔ آیندہ کے لِئے میرے واسطے راست بازی کا وہ تاج رکھّا ہُؤا ہے جو عادِل مُنصِف یعنی خُداوند مُجھے اُس دِن دے گا اور صِرف مُجھے ہی نہیں بلکہ اُن سب کو بھی جو اُس کے ظہُور کے آرزُو مند ہوں۔
اور اپنے اِعضا ناراستی کے ہتھیار ہونے کے لِئے گُناہ کے حوالہ نہ کِیا کرو بلکہ اپنے آپ کو مُردوں میں سے زِندہ جان کر خُدا کے حَوالہ کرو اور اپنے اِعضا راست بازی کے ہتھیار ہونے کے لِئے خُدا کے حَوالہ کرو۔
پس جو بونے والے کے لِئے بِیج اور کھانے کے لِئے روٹی بہم پُہنچاتا ہے وُہی تُمہارے لِئے بیج بہم پُہنچائے گا اور اُس میں ترقّی دے گا اور تُمہاری راست بازی کے پَھلوں کو بڑھائے گا۔
کہ اگر تُو دِل لگا کر خُداوند اپنے خُدا کی بات سُنے اور وہی کام کرے جو اُس کی نظر میں بھلا ہے اور اُس کے حُکموں کو مانے اور اُس کے آئین پر عمل کرے تو مَیں اُن بیمارِیوں میں سے جو مَیں نے مِصریوں پر بھیجیں تُجھ پر کوئی نہ بھیجُوں گا کیونکہ مَیں خُداوند تیرا شافی ہُوں۔
کیونکہ اِنسانوں میں سے کَون کِسی اِنسان کی باتیں جانتا ہے سِوا اِنسان کی اپنی رُوح کے جو اُس میں ہے؟ اِسی طرح خُدا کے رُوح کے سِوا کوئی خُدا کی باتیں نہیں جانتا۔